بھٹکل، 20/اپریل (ایس او نیوز) اسمبلی انتخابات کے لئے امیدواروں کی طرف سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے موقع پر اطراف و اکناف سے بلائے گئے ہزاروں حامیوں کے ساتھ ریلی نکالنا اور مندروں میں پوجا کے ساتھ جھنڈے لہراتے ہوئے نعروں کی گونج میں شہر کی اہم سڑکوں سے گزرنا سیاست دانوں کا نیا رجحان بن گیا یے۔ جس کا مظاہرا بھٹکل میں بھی کیا گیا۔
17 اپریل کو سب سے پہلے کانگریسی امیدوار منکال وئیدیا نے اپنا 'شکتی پردرشن' کیا - شہر اور مضافات کے علاوہ ہوناور اور اس کے اطراف کے قصبوں سے بلائے گئے ہزاروں حامیوں کے ساتھ بے شمار جھنڈوں اور فلک شگاف نعروں کے ساتھ ایک زبردست جلوس کی شکل میں اے سی کے دفتر پہنچ کر پرچہ نامزدگی داخل کیا گیا۔ سیاسی جانکار اس روڈ شو میں ہزاروں حامیوں کی شرکت کو منکال وئیدیا کی طرف سے ماضی میں رکن اسمبلی رہتے ہوئے انجام دئے گئے تعمیراتی کاموں کے علاوہ عوام کے ساتھ ان کے بہتر روابط اور عمدہ سماجی و فلاحی خدمات کا نتیجہ مانتے ہیں۔ اور پرجوش کانگریسی کارکنان منکال وئیدیا کو اگلے ایم ایل اے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں ۔
دوسرا 'شکتی پردرشن' 18 اپریل کو بی جے پی کے امیدوار سنیل نائک نے کیا۔ کثرت تعداد اور جوش و ولولہ کے اعتبار سے منکال وئیدیا کی ریالی پر یہ جلوس بھاری دکھائی دے رہا تھا۔ بی جے پی اور ہندوتوا کے جھنڈوں کی کثرت آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ۔ فلک شگاف نعروں کے بیچ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ جہاں تک نظر جاتی کچھ دیر کے لئے گیروا لباس والے ہزاروں کاریہ کرتا اور جھنڈوں کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ سیاسی جانکاروں کا خیال ہے کہ موجودہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے سنیل نائک نے گزشتہ پانچ برسوں میں جو کچھ ترقیاتی کام کیے ہیں اور مختلف موقعوں پر نوجوان کارکنان کو متاثر کرنے والے اقدامات کیے ہیں اس کا بھر پور فائدہ سنیل نائک کو ملنے کے آثار اس ریلی میں صاف نظر آتے ہیں۔
پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا تیسرا جلوس جے ڈی ایس امیدوار ناگیندرا نائک کا تھا جو 19 اپریل کو نکالا گیا ۔ منکال اور سنیل کے اپنائے گئے راستے پر ہی نکلا ہوا یہ جلوس اگرچہ شرکاء کی تعداد اور جوش کے اعتبار سے پچھلے دو جلوسوں سے کچھ کم تھا لیکن چونکہ ہائی کورٹ کے وکیل ناگیندرا نائک پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں اور بھٹکل میں وہ عوامی سطح پر اپنے آپ کو متعارف کروانے کا موقع انہیں پہلی مرتبہ ملا ہے اس لئے سمجھا جاتا ہے کہ یہ 'پردرشن' توقع سے زیادہ کامیاب تھا ۔ ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک ایک صاف ذہن اور نوجوانوں کی ترقی اور ان کے مستقبل کی تعمیر کے لئے فکر مند مقامی شخصیت ہے ۔ زراعت اور روزگار کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں وہ بہت سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ کر رہے ہیں اور امن و امان والے روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک پاک و صاف اور بے داغ کردار کے مالک ناگیندرا نائک کو ووٹوں کی شکل میں عوام کا کتنا آشیرواد ملتا ہے اور خود جنتا دل ایس پارٹی اس مقابلہ کو جیت میں بدلنے کے لئے کیا مشقت کرتی ہے ۔
اس کے علاوہ بھٹکل اسمبلی حلقہ سے عآپ کے امیدوار ڈاکٹر نسیم خان نے بڑی سادگی کے ساتھ اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے ۔ ڈاکٹر خان اپنی طبی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ پچھلے کچھ عرصہ تک ویلفیئر پارٹی سے منسلک رہ کر سیاسی محاذ پر سرگرم رہنے کے بعد عآپ پارٹی میں شمولیت اخیتار کی تھی ۔ پارٹی کی طرف سے باضابطہ طور پر ان کے نام کا اعلان ہونے سے بہت پہلے ہی انہوں نے اسمبلی حلقہ کا دورہ اور عوام سے ملاقاتوں سلسلہ شروع کیا تھا۔
اس مرتبہ دیگر جو امیدوار میدان میں اب تک اترے ہیں ان میں کرناٹکا راشٹرا پکشا کی طرف سے شنکر گنپیا گوڈا، بھارتیہ بیلکو پارٹی کی طرف سے پنٹو پاسکل کے علاوہ بطور آزاد امیدوار جبروت خطیب کا نام شامل ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ ہوناور سے شریپد ہیگڈے نامی شخص بھی بطور آزاد امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کرنے والا ہے ۔